اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وفاقی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹورمی ڈینیئلز کو رقم دے کر خاموش کرانے کے مقدمے میں اپنی سزا ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ایکسِیوس کے مطابق، وفاقی جج ایلوِن کے ہیلرستین نے 35 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی قانونی طور پر ان کی سزا ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ٹرمپ کو مئی 2024 میں کاروباری ریکارڈ میں جعل سازی کے تمام 34 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ امریکی تاریخ کے پہلے ایسے صدر بن گئے جنہیں کسی جرم میں سزا سنائی گئی۔
جیوری نے قرار دیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے سابق وکیل مائیکل کوہن کے ذریعے اسٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے تاکہ 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے ساتھ مبینہ جنسی تعلق کو منظر عام پر آنے سے روکا جا سکے، اور اس ادائیگی کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں جعل سازی کی گئی۔
ٹرمپ نے 2025 میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کہ صدور کو بعض سرکاری اقدامات پر صدارتی استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، مقدمہ وفاقی عدالت میں منتقل کرنے اور اپنی سزا ختم کرانے کی کوشش کی تھی۔
تاہم جج ہیلرستین نے واضح کیا کہ رقم دے کر خاموش کرانے کی ادائیگی اور ذاتی تعلق چھپانے کی کوشش صدارتی منصب کی سرکاری ذمہ داری نہیں تھی، اس لیے اسے صدارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔
جج نے یہ بھی قرار دیا کہ ٹرمپ نے مقدمہ وفاقی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی اور دراصل اپنے سابقہ دلائل دوبارہ پیش کرنے کے لیے ایک اور موقع حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر ’’سیاسی انتقامی کارروائی‘‘ قرار دیا اور اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
یہ مقدمہ 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل اسٹورمی ڈینیئلز کو مبینہ جنسی تعلق کے بارے میں خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے جانے سے متعلق ہے۔
آپ کا تبصرہ